آنگن واڑیاں ختم کرکے پری پرائمری اسکول قائم کرنے حکومت کو مشورہ
بنگلورو۔2؍دسمبر(ایس او نیوز) 82 ویں کنڑا ساہیتہ سمیلن کے صدر اور معروف ادیب ڈاکٹر برگور رامچندرپا نے آج سمیلن میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے ریاست کے تعلیمی نظام میں عدم مساوات پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر مساوات لانے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہاکہ تعلیمی نظام میں مساوات لانے کیلئے وہ پانچ نکاتی فارمولہ تجویز کررہے ہیں۔ ان کے مطابق تمام تر سہولتوں سے لیس تعلیمی ادارے ریاست بھر میں یکساں ماڈل پر قائم کئے جانے چاہئیں۔ اس میں ہائیر پرائیمری اور ہائی اسکول بھی شامل رہیں۔ دیہاتوں کی سطح پر ضرورت کی بنیاد پر لوئیر پرائمری اسکول قائم رہے۔ گرام پنچایتوں کی حدود میں موجود اسکولوں میں بچوں کو لانے لے جانے کیلئے گاڑیوں کا انتظام سرکاری سطح پر کیا جائے۔شہری علاقوں میں ہر وارڈ میں اس طرح کا اسکول قائم کیا جائے۔محکمۂ تعلیمات کو اس اسکول کی ذمہ داری اپنے سر لینی ہوگی ،تاکہ ریاست میں یکساں تعلیمی نظام کی بنیاد ڈالی جاسکے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں کنڑا اور مادری زبان کی تعلیم کے ساتھ پہلی جماعت سے بچوں کو انگریزی سے آراستہ کرنے کا انتظام ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کے جتنے بھی غیر کنڑا اسکول ہیں وہاں پر کنڑا تعلیم لازمی قرار دی جائے۔کم از کم ایک سبجکٹ کے طور پر ہی سہی ان اسکولوں میں کنڑا کی تعلیم دی جانی چاہئے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ہائیر پرائمری اسکولوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، کنڑا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے صدر کے طور پر بھی انہوں نے آنگن واڑیوں کے قیام کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ آنگن واڑیوں کو پری نرسری اسکولوں میں تبدیل کردیا جاناچاہئے۔پچھلی حکومت نے اسے باضابطہ منظوری دی تھی۔ پروفیسر برگو ر رامچندرپا نے کہاکہ آنگن واڑیوں کو تبدیل کرکے اگر وہاں ایل کے جی اور یوکے جی جیسے کلاس قائم کئے جائیں تو وہاں سے نہ صرف تعلیمی معیارکی ایک اچھی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے ،بلکہ بنیادی سطح پر ہی بچوں کو انگریزی اور کنڑا سے واقف کرایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے تمام سرکاری اسکولوں میں انگریزی کو بطور ایک زبان سکھانے کا انتظام کیا جائے گا تو سرکاری تعلیمی ادارے خود بخود استحکام کی طرف بڑھیں گے۔انہوں نے کہاکہ ریاست بھر میں سرکاری نرسری اسکولوں کیلئے یکساں تعلیمی نصاب قائم کیاجاناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ مادری زبان اور علاقائی زبان میں تعلیم کے لزوم کو آگے بڑھانے کیلئے ضرورت پڑے تو آئینی ترمیم کیلئے جدوجہد کی جائے۔ سمیلن کے صدر نے کہاکہ اسکول میں تعلیم بھلے ہی کسی بھی زبان میں دی جارہی ہو کرناٹک میں اگر یہ اسکول ہیں تووہاں کرناٹک کا ماحول قائم ہونا چاہئے۔ یہاں کی تہذیب وتمدن کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی تعلیم مکمل نہیں ہوسکتی۔اس کیلئے انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ نجی تعلیمی اداروں کو اعتماد میں لیا جائے۔ پرائمری تعلیم کی سطح پر نئے نئے تجربات سے گریز کرنے حکومت کو تاکید کرتے ہوئے پروفیسر برگور رامچندرپا نے کہاکہ کمسن ذہنوں پر اس طرح کا بوجھ لادنے سے ان کا تعلیمی استحکام کمزور پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری تعلیمی اداروں کو تقویت اور یکساں تعلیمی پالیسی اپنائے بغیر تعلیمی نظام میں عدم مساوات کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ تعلیمی نظام ناانصافیوں سے بھرا پڑا ہے۔ موجودہ تعلیمی نظام کو ہی مضبوط کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، بلکہ مساوات اور یکسانیت پر مبنی پہل ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ آج کے تعلیمی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے آنگن واڑیوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ بیشتر غریب بچے آنگن واڑیوں کا رخ کرتے ہیں ، اگر ان کے ماں باپ کے پاس تعلیم دلانے کی حیثیت ہوتی تو وہ بھی ایل کے جی یا یوکے جی میں زیر تعلیم ہوتے۔حکومت ان بچوں سے ان کا حق نہ چھینے، بلکہ آنگن واڑیوں کو ہی پری پرائمری اسکولوں میں تبدیل کرکے ان غریب بچوں کو یل کے جی اور یو کے جی کی تعلیم سے آراستہ کیا جائے، تاکہ ان بچوں میں بھی اچھی تعلیم حاصل کرنے کا طرہ لگ سکے اور احساس کمتری کا شکار نہ بنیں۔ انہوں نے کہاکہ بیشتر سرکاری اسکولوں کا رخ سماج کے غریب طبقات سے وابستہ بچے ہی کرتے ہیں ، اگر یہی روش برقرار رہی تو سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے درمیان خلیج بڑھتی ہی جائے گی اور انگریزی تعلیمی ادارے معیاری تعلیم کے نام پر استحصال کا سلسلہ اور شدت سے جاری رکھیں گے۔ انہوں نے حکومت کو ماڈل اسکولوں کی تعمیر کرنے پر زور دیا اور کہاکہ فی الوقت مرارجی دیسائی اسکول ، رانی چنما اسکول، نوودیا اسکول اور دیگر چند عمدہ معیاری اسکول جس طرح قائم کئے گئے ہیں اسی طرز پر ایک ہی چھت تلے نرسری سے بارھویں جماعت تک کی تعلیم کے انتظامات کئے جائیں۔ جہاں تک اعلیٰ تعلیم کا مرحلہ ہے اسے بعد میں بھی سدھارا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ اسی وقت سدھرے گا، جب یہ سیاست سے پاک ہوجائے۔ خاص طور پر یونیورسٹیوں میں مفاد پرست سیاسی عناصر کی کثرت نے تعلیمی ماحول کو پراگندہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان دنوں کمپیوٹر اور دیگر مواصلاتی آلات کی مدد سے اسباق دینے کا رواج چل پڑا ہے جو کہ غلط ہے۔ اس طریقے سے بچوں میں اساتذہ کا احترام اور تعلیم حاصل کرنے کی چاہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ استاد اور طالب علم کے درمیان راست رابطہ ہی حصول علم کی ضمانت بن سکتا ہے۔